دست نازک تو نہیں بار اُٹھانے کے لئے

دست نازک تو نہیں بار اُٹھانے کے لیے
تم سے کس نے کہا تلوار اُٹھانے کے لیے

زینتِ دار تو ہیں لوگ بہت سے لیکن
سر نہیں کوئی بھی تیار اُٹھانے کے لیے

ناخدا تیرے تو اُوسان ہیں پہلے ہی خطا
حوصلہ چاہئے پتوار اُٹھانے کے لیے

دشت میں دھوپ کو جو اُوڑھ کے سو جاتے ہیں
اُن کو آتے نہیں آزار اُٹھانے کے لیے

کون یہ روز مرے شہر میں آجاتا ہے
اک قیامت سرِ بازار اُٹھانے کے لیے

یہ تو توہینِ محبت ہے کوئی اور اُٹھائے
آپ آئیں مجھے سو بار اُٹھانے کے لیے

جب نہ آوازِ جرس سے اُٹھے سونے والے
آئی زنجیر کی جھنکار اُٹھانے کے لیے

ہم کہ دل میں لیے بیٹھے ہیں ملال ہجرت
کب ہمیں آئیں گے انصار اُٹھانے کے لیے

ہم تو کچھ رکھتے نہیں اپنی دکاں میں اعجازؔ
مال آتے ہیں خریدار اُٹھانے کے لیے