امن و اخوت عدل کا پیکر مکہ اور مدینہ ہے

امن و اخوت عدل کا پیکر مکہ اور مدینہ ہے
خالق اور معبود کا محور مکہ اور مدینہ ہے

لوگو یہاں پر مل جائے گی دنیا کے ہر غم سے نجات
بندہ نواز و بندہ پرور مکہ اور مدینہ ہے

شام و سحر آتے ہیں فرشتے اُس کی زیات کرنے کو
ایسا دل جس دل کے اندر مکہ اور مدینہ ہے

روح و بدن کی ساری کثافت ہو جاتی ہے دور یہاں
رحمت کا ایک ایسا سمندر مکہ اور مدینہ ہے

دنیا میں جتنے بھی مقام اس روئے زمیں پر افضل ہیں
سب سے اعلیٰ سب سے بہتر مکہ اور مدینہ ہے

اور کوئی دنیا میں نہیں ہے امن و سکون کا گہوارہ
دیکھ لے کوئی آج بھی جا کر مکہ اور مدینہ ہے

اور کوئی منظر ہی نہیں ہے میری نگاہوں میں اعجازؔ
میرا منظر اور پس منظر مکہ اور مدینہ ہے