زبانِ رب ہے زبان اُس کی کلام رب ہے کلام اُس کا

زبانِ رب ہے زبان اُس کی کلام رب ہے کلام اُس کا
اِمام تو اس کے مقتدی ہیں کوئی نہیں ہے اِمام اُس کا

بشیر بھی ہے، نذیر بھی ہے، وہ روشنی کا سفیر بھی ہے
محمدؐ اسمِ گرامی اُس کا، لقب ہے خیرالانام اُس کا

یہ اس کا در ہے کہ جس کے درکا طواف ہے قدسیوں پہ واجب
خدا کے بندے یہ جانتے ہیں کہ فرض ہے احترام اُس کا

شرابِ توحید پی رہے ہیں جو تشنہ لب ہیں وہ جی رہے ہیں
یہ گردشِ وقت رُک بھی جائے رہے گا گردش میں جام اُس کا

اُسی پہ قرآں ہوا ہے نازل وہی ہے کون و مکاں کا حاصل
ہماری سوچوں سے ماورا ہے خدا ہی جانے مقام اُس کا

اویسؒ کوئی، بلالؓ کوئی، نہیں ہے ان کا مثال کوئی
بلند رتبہ ہوا اسی کا جو بن گیا ہے غلام اس کا

یہ حکمِ رب ہے جو لب بلب ہے کرے کوئی انحراف کیسے
درود پڑھتی ہے ساری خلقت زباں پر آئے جو نام اُس کا

خدا نے وعدہ کیا ہے اُس سے حفاظت اُس کی ہے ذمہ داری
زمانہ بدلے ہزار کروٹ رہے گا جاری نظام اُس کا

عظیم ہے وہ عظیم تر ہے وہ رہبروں کا بھی راہبر ہے
نماز میں ہے درود اُس کا اذاں میں اعجازؔ نام اُس کا