ایک نیا اندازِ تکلّم آقا نے ایجاد کیا

ایک نیا اندازِ تکلّم آقا نے ایجاد کیا
جو بھی بات زباں سے نکلی رب نے اُس پر صاد کیا

انسانوں میں اُس سے بڑا انسان نہیں اور کوئی
جس کی بڑائی کو خالق نے قرآں میں اِرشاد کیا

جنگل کا قانون تھا نافذ آپ سے پہلے دنیا میں
آپ نے بدلا سوچوں کو تہذیب کا شہر آباد کیا

جس میں نظر آتا ہی نہیں ہے ایک بھی بال برائی کا
آقاؐ نے کردار کا ایسا آئینہ ایجاد کیا

سچی بات تو یہ ہے جس نے بات نہ مانی آقاؐ کی
اُس نے اپنی دنیا گنوائی عقبیٰ کو برباد کیا

ہار گئے تھے کیسے کیسے طاقتور کمزوروں سے
آپ نے سنگ کو موم بنایا شیشے کو فولاد کیا

بیٹھے ہیں تیار سفر کو باندھ کے ہم سامانِ سفر
ہم بھی پہنچ جائیں گے مدینے آقاؐ نے گر یاد کیا

آپؐ نے ایسے گر سکھلائے انسانوں کو جینے کے
رنج و مصائب کے ماروں کو ہر غم سے آزاد کیا

یہ بھی بات بتائی ہے اعجازؔ رسولؐ اکرمؐ نے
دامِ مصیبت وہ نکلا ہے جس نے خدا کو یاد کیا