جو ہم ذکر خیرِ البشرؐ کر رہے ہیں

جو ہم ذکر خیرِ البشرؐ کر رہے ہیں
اُجالے مسلسل سفر کر رہے ہیں

خدا کی قسم مدحتِ مصطفیؐ سے
حیات اپنی ہم معتبر کر رہے ہیں

وہ اقوال ہیں صرف محبوبؐ رب کے
دلوں میں جو لوگوں کے گھر کر رہے ہیں

درود و سلام اپنے لب پر سجا کر
مدینے کی جانب سے سفر کر رہے ہیں

درِ مصطفیؐ پر بہا کر ہم آنسو
تجھے معتبر چشمِ تر کر رہے ہیں

ہمارے تو پلے میں کچھ بھی نہیں ہے
مگر ناز ہم آپؐ پر کر رہے ہیں

ہمارے لیے خاکِ طیبہ ہے مرہم
گلاب اپنے زخمِ جگر کر رہے ہیں

کوئی اور آتا نہیں کام ہم کو
ثنائے محمدؐ مگر کر رہے ہیں

نبی جمع ہیں آج اقصیٰ میں سارے
امامت شہہِ بحر و بر کر رہے ہیں

یہ اعجازؔ اعجاز ہے مصطفی کا
وہ ذرّوں کو رشکِ قمر کر رہے ہیں