اللہ سے مل جائے اجازت جو سفر کی

اللہ سے مل جائے اجازت جو سفر کی
کر لوں میں زیارت شہہِؐ کونین کے در کی

میں روزِ ازل سے ہوں مدینے کا مسافر
کیا مجھ کو ضرورت کسی سامان سفر کی

یہ مدحتِ سرکارؐ دو عالم اثر ہے
روشن ہے ہر اِک چیز ابھی تک مرے گھر کی

کونین کی دولت ہوئی اُس شخص کو حاصل
اللہ کے محبوبؐ نے جس پر بھی نظر کی

ہے پیشِ نظر آج مرے گنبدِ خضرا
تقدیر کھلی آج مرے دیدۂ تر کی

انوار کی بارش نہ ہوئی بزمِ جہاں میں
جب تک کہ نقابِ رخِ سرکارؐ نہ سرکی

قرآن و احادیث سے ہے ربط ضروری
دنیا کو ضرورت ہے ابھی علم و ہنر کی

انسان ہوا زیست کے آداب سے واقف
جب سیرتِ سرکارؐ ِ دو عالم پہ نظر کی

دونوں ہی جگہ نور کی بارش نظر آئی
طیبہ میں ہوئی رات تو مکے میں سحر کی

اعجازؔ یہ ہے تربیت شاہِؐ اُمم کی
ہوتی نہ کبھی دہر میں تکمیل بشر کی