چین سے سو جائے گا بیمارِ محبوبؐ خدا

چین سے سو جائے گا بیمارِ محبوبؐ خدا
مل گیا ہے سایۂ دیوارِ محبوبؐ خدا

بس اسی امید پر سوتا ہوں میں پڑھ کر درود
ایک دن ہو جائے گا دیدارِ محبوبؐ خدا

وہ بشر رکھتا ہے جو دل میں تما خلد کی
دیکھ لے اک بار وہ دربارِ محبوبؐ خدا

خاص بندوں میں خدا کے وہ بھی شامل ہوگیا
جس نے دل سے کر لیا اقرارِ محبوبؐ خدا

مل گئیں اس شخص کو دونوں جہاں کی عظمتیں
ہو گیا جو شاملِ انصار محبوبؐ خدا

بڑھتا رہتا ہے خریدارانِ جنت کا ہجوم
سرد ہوتا نہیں بازارِ محبوبؐ خدا

ان کی عظمت کی حدوں کو چھو نہیں سکتا کوئی
عقل سے ہے ماورا معیار محبوبؐ خدا

روز و شب پھیلا رہے تھے روشنی اسلام کی
سب صحابیؓ تھے علم بردارِ محبوبؐ خدا

آج بھی بوجہل کی صف میں نظر آئے گا وہ
کر کے دیکھے تو کوئی انکارِ محبوبؐ خدا

رک گئی تھیں وقت کی اعجازؔ سانسیں ایک شب
دیکھتا تھا وقت بھی رفتارِ محبوبؐ خدا