قیامت تھی برپا قیامت سے پہلے

قیامت تھی برپا قیامت سے پہلے
مگر مصطفیؐ کی ولادت سے پہلے

اجالوں کے ساماں بہت سے تھے لیکن
اندھیرا تھا شمعِ رسالت سے پہلے

خواتین کی کوئی حرمت نہیں تھی
رسول مکرمؐ کی بعث سے پہلے

تقاضہ ہے یہ سیرت مصطفیؐ کا
کرو پاک دل کو کدورت سے پہلے

مزاجوں کی تطہیر کی مصطفیؐ نے
نہ تھا کوئی واقف شرافت سے پہلے

تمدن کے ماتھے کا جھومر ہیں وہ بھی
کیے کام جتنے نبوت سے پہلے

حبیبؐ خدا کے کرم کی بدولت
میں جنت سے واقف ہوں جنت سے پہلے

کسی کی محبت کہاں معتبر ہے
حبیبؐ خدا کی محبت سے پہلے

لکھا جائے کیسے قصیدہ نبیؐ کا
سبق لو یہ قرآن و سنت سے پہلے

الہٰی پھر اک بار طیبہ دکھا دے
دعا ہے یہی لب پہ رخصت سے پہلے

مجھے کوئی اعجازؔ کب جانتا تھا
رسولِ مکرمؐ کی مدحت سے پہلے