میں آ تو گیا ہوں درِ مصطفیؐ تک

میں آ تو گیا ہوں درِ مصطفیؐ تک
پہنچ جاؤں گا رفتہ رفتہ خدا تک

مدینے میں سر کو اٹھا کر نہ چلنا
یہاں تو ہے چلتی ادب سے ہوا تک

لباسِ تمدن نبیؐ کی عطا ہے
نہ تھی آدمی کے بدن پر قبا تک

اگر ان کا اسمِ گرامی نہ لیتے
نہ مقبول ہوتی ہماری دعا تک

ہمیں تو خبر ابتدا کی نہیں ہے
وہ پہنچے کمالات کی انتہا تک

غلامی کا حق وہ ادا کیا کرے گا
زباں پر نہیں جس کی صلِّ علیٰ تک

اگر مصطفیؐ کی نوازش نہ ہوتی
رسائی نہ ہوتی ہماری خدا تک

نہیں اس حقیقت سے انکار ممکن
نبوت ہے آدمؑ سے خیرالوریٰؐ تک

نہ ہوتا اگر نعت گوئی کا جوہر
مجھے بھول جاتے مرے ہم نوا تک

اسی دائرے میں ہے اعجازؔ سب کچھ
خدا سے نبیؐ تک، نبیؐ سے خدا تک