گر پیشِ نظر اسوۂ سرکارؐ نے ہوگا

گر پیشِ نظر اسوۂ سرکارؐ نہ ہوگا
انسان کبھی صاحب کردار نہ ہوگا

احکام شریعت پہ عمل کرتا ہے جو بھی
وہ شخص مصائب میں گرفتار نہ ہوگا

سرکارؐ کی خوشبو کی رمق جس میں نہیں ہے
وہ پھول کبھی زینتِ گلزار نہ ہوگا

آنسو جو بہاتا ہے غمِ سرورِؐ دیں میں
بیمار بھی ہوتے ہوئے بیمار نہ ہوگا

توصیفِ نبیؐ میں نہ زباں جس کی کھلی ہو
کوثر کی وہ اک بوند کا حق دار نہ ہوگا

محروم ہے تعلیم سے جو سرورِؐ دیں کی
بیدار بھی ہوتے ہوئے بیدار نہ ہوگا

سرکارؐ نوازیں گے اسے بھی سر محشر
جس شخص کا کوئی بھی طرف دار نہ ہوگا

لوگو! جو عمل کرتا ہے اخلاق نبیؐ پر
وہ شخص اٹھائے ہوئے تلوار نہ ہوگا

امید ہے سرکارؐ نوازیں گے مجھے بھی
محشر میں کوئی مجھ سا گناہگار نہ ہوگا

اعجازؔ مرا نام تخلص بھی ہے اعجاز
سرکارؐ کو کیا مجھ سے سروکار نہ ہوگا