ہوا طلوع حرا سے جو علم کا سورج

ہوا طلوع حرا سے جو علم کا سورج
شعور و فکر کی دنیا پہ چھا گیا سورج

یہ کہکشاں جسے کہتے ہیں دھول قدموں کی
حضورؐ آپ کا ایک ایک نقشِ پا سورج

حضورؐ آپ کی انگلی کے اشارے سے
قمر دو نیم ہوا اور پلٹ گیا سورج

دیارِ جہل میں جب آپؐ نے قدم رکھا
طلوع ہو گیا تہذیب کا نیا سورج

حضورؐ آپ کا اس نے جمال دیکھا ہے
جو سورج آج ہے دنیا میں کل بھی تھا سورج

اسی طرح سے چمکتا رہے گا دنیا میں
غروب ہوگا نہ سرکارؐ آپ کا سورج

غلام آپؐ کے کمتر نہیں ہیں شاہوں سے
حضورؐ آپ نے ذرّوں کو کر دیا سورج

غضب کی آگ جو برسا رہا تھا محشر میں
حضورؐ آپ کے آنے سے بجھ گیا سورج

کسی سے کس لیے اعجازؔ روشنی مانگیں
ہے جن کے واسطے کردار مصطفیؐ سورج