کوئی مثلِ سرورؐ ذیشان آیا ہی نہیں

کوئی مثلِ سرورؐ ذیشان آیا ہی نہیں
آپؐ سے بہتر کوئی انسان آیا ہی نہیں

میرے آقا آپؐ کے بعد اور نہ پہلے آپؐ سے
عرشِ اعظم پر کوئی مہمان آیا ہی نہیں

کچھ کتابیں بھی ہوئی نازل صحیفے بھی ہوئے
آپؐ سے پہلے مگر قرآن آیا ہی نہیں

آپؐ سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں رب کی حضورؐ
کوئی بن کر رحمتِ رحمان آیا ہی نہیں

آپ ؐ کے نقشِ قدم پر چل کے جنت مل گئی
راستا ایسا کوئی آسان آیا ہی نہیں

آپؐ کو سوچا ہے جب بھی ذہن کے در کھل گئے
کام میرے اس طرح وجدان آیا ہی نہیں

علم کا خورشید نکلا آپؐ ہی کے دور میں
دور پھر ایسا عظیم الشان آیا ہی نہیں

دیکھ لوں جا کر مدینہ اک یہی ارمان ہے
دوسرا دل میں کوئی ارمان آیا ہی نہیں

حمدِ رب، نعتِ نبیؐ رکھتا ہوں میں ورد زباں
ناؤ تک میری کوئی طوفان آیا ہی نہیں

نعت گو تو اور بھی اعجازؔ آئے ہیں بہت
کوئی لیکن ہمسرِ حسانؓ آیا ہی نہیں