مستقل ہو رہے ہیں کرم پر کرم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

مستقل ہو رہے ہیں کرم پر کرم شام سے صبح تک صبح سے شام تک
سامنے ہے دیارِ شفیعِؐ امم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

اپنے اللہ سے لو لگائے ہوئے لوگ بیٹھے ہیں آنکھیں بچھائے ہوئے
ہے درودوں کی بارش میں سارا حرم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

نور ساماں نظر ہو رہی ہے زندگی معتبر ہو رہی ہے
ہے طوافِ درِ مصطفیؐ اور ہم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

درس دیتے تھے لوگوں کو قرآن کا آپؐ پر چار کرتے تھے رحمان کا
آپ رہتے تھے مصروفِ کارِ اہم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

دن میں خورشید ہیں شب کو مہتاب ہیں کیسے کیسے اجالوں کے اسباب ہیں
جگمگاتے ہیں آقاؐ کے نقشِ قدم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

ہو رہی ہے مسلسل نوازش، مستقل ہے درودوں کی بارش
مہرباں ہے خدا بھی خدا کی قسم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

کتنے آرام سے میں مدینے میں ہوں امن کے عافیت کے سفینے میں ہوں
پاس آتا نہیں کوئی دنیا کا غم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

یاد کرلیں کسی روز سرورؐ مجھے ایک ایسا بھی دن ہو میسر مجھے
میرے پیشِ نظر ہے دیارِ حرم شام سے صبح تک صبح سے شام تک

ہے یہ اعجازؔ میری خدا سے دعا لب پہ جاری رہے مدحتِ مصطفی
نعت لکھتا رہے یونہی میرا قلم شام سے صبح تک صبح سے شام تک