نافذ جو محمدؐ کی شریعت نہیں ہوگی

نافذ جو محمدؐ کی شریعت نہیں ہوگی
دنیا سے کبھی دور جہالت نہیں ہوگی

سرکارؐ کی جس دل میں محبت نہیں ہوگی
اس پر کبھی اللہ کی رحمت نہیں ہوگی

ہو جائے گا جب خلقِ نبیؐ عام جہاں میں
انسان کو انسان سے نفرت نہیں ہوگی

جب تک ہے غلام ایک بھی سرکارؐ کا زندہ
برپا کسی صورت بھی قیامت نہیں ہوگی

اللہ بہرحال کرم کرتا رہے گا
رسوا کبھی سرکارؐ کی امت نہیں ہوگی

کام آئیں گے آنسو ہی سرِ روضۂ اقدس
مجھ سے تو غمِ دل کی وضاحت نہیں ہوگی

جب لوگ پہن لیں گے شریعت کا لبادہ
تلوار کی، خنجر کی ضرورت نہیں ہوگی

اقوال ہمیں یاد ہیں محبوبؐ خدا کے
ہم سے کسی ظالم کی حمایت نہیں ہوگی

محبوبؐ خدا لائیں گے تشریف نہ جب تک
محشر میں کسی کی بھی شفاعت نہیں ہوگی

اعجازؔ مرے پاس وہ الفاظ نہیں ہیں
شایانِ نبیؐ مجھ سے تو مدحت نہیں ہوگی