جس قدر بھی سرورِؐ عالم کے پیروکار ہیں

جس قدر بھی سرورِؐ عالم کے پیروکار ہیں
امن کے موسم پھول اور جنگ میں تلوار ہیں

جن کو تھوری سی بھی نسبت ہے درِ سرکارؐ سے
آج بھی تقدیسِ انساں کے علم بردار ہیں

ہو نہیں سکتے مسیحائیوں کے وہ منت گزار
ان سے اچھا کون ہے جو آپؐ کے بیمار ہیں

ان کی رحمت کے سہارے ہو رہا ہے طے سفر
ہم تو اپنے راستے کی آج بھی دیوار ہیں

آج کا انساں مہہ و مریخ کی منزل میں ہے
آپؐ کی نقشِ کفِ پا رہنما سرکارؐ ہیں

پوچھیے جبریلؑ سے یا پوچھیے قرآن سے
کس بلندی پر شبِ اسریٰ مرے سرکارؐ ہیں

دہر میں سرکارؐ کی نسبت سے ہیں ممتاز ہم
ورنہ دنیا میں بہت سے اور دنیا دار ہیں

خلقِ محبوبؐ خدا سے اب نہیں نسبت ہمیں
دولتِ دنیا بھی ہم رکھتے ہوئے نادار ہیں

چھوڑ کر قرآن اور دامانِ ختم المرسلیںؐ
اپنی بربادی کے خود ہی ہم تو ذمہ دار ہیں

جب سے ٹوٹا ہے مدینے سے ہمارا رابطہ
ہم سے گھر والے ہی کیا ہمسائے بھی بیزار ہیں

چاہیے سیرت پہ بھی اعجازؔ رحمانی عمل
ورنہ نعتیں اور قصیدے سب کے سب بیکار ہیں