جس کو فردوس آثار کہیے وہ مکاں مصطفی کا مکاں ہے

جس کو فردوس آثار کہیے وہ مکاں مصطفی کا مکاں ہے
کیا زمیں ہے زمینِ مدینہ جس زمیں پر فدا آسماں ہے

رحمتوں کا ہی موسم رہے گا یونہی سرشار عالم رہے گا
جب تلک ذات خیرالبشرؐ کی عبد و معبود کے درمیاں ہے

مہربانی ہے ربِّ العلا کی کیا ضرورت ہمیں رہنما کی
دہر میں اسوۂ مصطفیؐ کا آئینہ آج بھی ضوفشاں ہے

چاہیے جس کو دلت سکوں کی ہے یہی ایک صورت سکوں کی
وہ چلا جائے سوئے مدینہ جو طلبگارِ امن و اماں ہے

مصطفیؐ کے میں گن گا رہا ہوں اک نئی روشنی پا رہا ہوں
جب سے لب پر درود آگیا ہے ہر بلا مجھ سے دام کشاں ہے

چھوڑ کر عارضی سب سہارے تھام لو دامنِ مصطفیؐ کو
جس کو سرکار سے ہے محبت اس پر اللہ بھی مہرباں ہے

رحمتوں کی ہر اک سمت بارش ہر قدم ہو رہی ہے نوازش
جا رہا ہوں میں سوئے مدینہ نام سرکارؐ ورد زباں ہے

اپنا سب کچھ ہے ان کی بدولت ہے دلوں پر ان ہی کی حکومت
بات مانے نہ جو مصطفیؐ کی اس کا ہر اک عمل رائیگاں ہے

آپؐ کی ہوں توجہ کا طالب اک نگاہِ کرم میری جانب
ایک پل کا بھروسہ نہیں ہے مختصر میری عمرِ رواں ہے

ہے یہ اعجازؔ ہجرِ نبیؐ کا اہتمام اس قدر روشنی کا
میری پلکوں پہ آنسو نہیں ہیں جگمگاتی ہوئی کہشاں ہے