وہ جو محبوبِ ربِ العلا ہے اس کی جانب سفر چاہتا ہوں

وہ جو محبوبِ ربِ العلا ہے اس کی جانب سفر چاہتا ہوں
اور کوئی تمنا نہیں ہے بس مدینے میں گھر چاہتا ہوں

جب تک ان کی نوازش نہ ہوگی میرا کشکول خالی رہے گا
میں گدائے درِ مصطفیؐ ہوں کوئے خیرالبشرؐ چاہتا ہوں

میری آنکھوں میں جتنے ہیں آنسو ان کی کوئی بھی قیمت نہیں ہے
ایک آنسو بنام مدینہ حاصل چشمِ تر چاہتا ہوں

میں گناہ گار ہوں میرے آقاؐ زندگی بوجھ ہے مجھ پہ میری
جو قیامت تلک کام آئے ایسا زادِ سفر چاہتا ہوں

آگ میں اپنی میں جل رہا ہوں کس کو روداد اپنی سناؤں
لو لگی ہو مدینے سے جس کی ایسا سوزِ جگر چاہتا ہوں

کاش حسرت یہ ہو جائے پوری مجھ کو مل جائے اذنِ حضوری
روضۂ مصطفیؐ پر جو گزریں ایسے شام و سحر چاہتا ہوں

بوجھ عصیاں کا ہے میرے سر پر ہر طرف ہے قیامت کا منظر
آپؐ ہیں شافعٔ روزِ محشر اک کرم کی نظر چاہتا ہوں

تجھ سے ہوگا نہ غم کا مداوا ہے مدینے میں میرا مسیحا
لذت درد بڑھ جائے جس سے وہ دو چارہ گر چاہتا ہوں

مجھ کو شاعر بنایا ہے رب نے چاہتا ہوں مقام اک ادب میں
نعت لکھتا رہوں زندگی بھر یہ دعا میں اثر چاہتا ہوں