ذکرِ نبیؐ کے جیسے جلاتے ہیں ہم چراغ

ذکرِ نبیؐ کے جیسے جلاتے ہیں ہم چراغ
دنیا میں ایسے لوگ جلاتے ہیں کم چراغ

لوگو! درِ رسولؐ کی جانب سفر کرو
بن جائیں گے تمہارے بھی نقشِ قدم چراغ

میرا یقیں نہیں ہے تو قرآں سے پوچھ لو
روشن کیے حضورؐ نے کتنے اہم چراغ

ذہنوں کو مل رہی ہے تمدن کی روشنی
روشن ہیں کس قدر سرِ راہِ حرم چراغ

ہم نے بجھا دیے تھے دیے سب امید کے
تو نے جلا دیے ہیں نسیمِ کرم چراغ

نکلے ہیں چشمِ نم سے جو یادِ رسولؐ میں
وہ اشک بن گئے ہیں مرے شام غم چراغ

نسبت ہے جن کو نورِ رسالت مآبؐ سے
روشن ہیں آج تک وہ خدا کی قسم چراغ

پاتے ہیں روشنی جو دیارِ رسولؐ سے
ہیں صرف اور صرف وہی محترم چراغ

وہ آج سب لٹا دے دیار رسول میں
جتنے بھی تیرے پاس ہیں اے چشمِ نم چراغ

اعجازؔ لکھ رہے ہیں جو توصیفِ مصطفیؐ
میری نظر میں سب ہیں وہ اہلِ قلم چراغ