چراغِ مدحتِ سرکار روشن کر دیا گھر میں

چراغِ مدحتِ سرکار روشن کر دیا گھر میں
یہی اِک کام بس اچھا کیا ہے زندگی بھر میں

ازل سے آج تک جاری ہے فیضِ سرورِؐ عالم
کمی آئی نہیں کوئی بھی رحمت کے سمندر میں

درِ اَقدس پہ جاؤں گا تو اُس کو نذر کر دوں گا
بچا کر میں نے رکھا ہے جو آنسو دیدۂ تر میں

عزیزو! سیرتِ محبوبِؐ رب ہے موت دشمن کی
نہ کاٹ ایسی کسی تلوار میں ہے اور نہ خنجر میں

کرم اللہ کا یہ کم نہیں ہے اہلِ ایماں پر
غلامئ شہہِ کونین لکھ دی ہے مقدر میں

نبیؐ کا دامنِ رحمت ہے جب سے ہاتھ سے چُھوٹا
نظر آنے لگے ہیں سنگ، دستِ آئینہ گر میں

وہ مومن تو کجا ہر گز مسلماں ہو نہیں سکتا
اگر شک ہے کسی کو عظمتِ محبوبؐ داوَر میں

قیامت میں بدل جائے گا منظر ہی قیامت کا
رسولِؐ محترم جب آئیں گے میدانِ محشر میں

درِ سرکارؐ کا اعجاز ہے اعجازؔ رحمانی
مدینہ ہی نظر آتا ہے اب ہر ایک منظر میں