سرورؐ عالم آپ نے آکر ، ظلم کا استیصال کیا

سرورؐ عالم آپ نے آکر، ظلم کا استیصال کیا
علم و عمل کی دولت دے کر، مفلس کو خوش حال کیا

جب بھی کسی کے لب پر آیا، اسمِ گرامی آقاؐ کا
صلی اللہ علیہ وسلم کہہ کر اِستقبال کیا

آپ نے اپنے خلق سے ساری، دنیا کے دل موہ لیے
سنگ زنوں کو موم کیا اور عشق سے مالا مال کیا

آپؐ کا یہ احسان زمانہ، یاد رکھے گا حشر تلک
پستی میں جو لوگ پڑے تھے، اُن کو بلند اقبال کیا

آپؐ کے دامن کے سائے میں، دین بھی ہے اور دنیا بھی
آپؐ کو رحمت رب نے بنا کر، سب کے لیے اِرسال کیا

سچائی کا روشن سورج، آپؐ کی ایک اِک بات میں ہے
ہم نے اَحادیث و قراں سے، جب بھی اِستدلال کیا

شکر خدا کا دھوپ کی شدت، سائے میں تبدیل ہوئی
حشر کے دن جب اسمِ گرامی، آپؐ کا استعمال کیا

بابِ قبول تلک پہنچایا، ہاتھوں ہاتھ فرشتوں نے
گنبدِ خضرا کے سائے میں، عرض جو میں نے حال کیا

میرا کوئی اعجازؔ نہیں ہے، یہ اعجاز دُرود کا ہے
موجِ تلاطم نے خود بڑھ کر، ناؤ کا اِستقبال کیا