خنجر کی ہے مجھ کو ضرورت ، اور نہ کسی تلوار کی ہے

خنجر کی ہے مجھ کو ضرورت، اور نہ کسی تلوار کی ہے
لب پر میرے حمدِ خدا ہے، اور مدحت سرکارؐ کی ہے

سونا، چاندی، ہیرے، موتی، اُن کی حقیقت کچھ بھی نہیں
جس کو پسند کیا آقاؐ نے، وہ دولت کردار کی ہے

کس نے جسم پہ پتھر کھائے، کس نے دُعا دی لوگوں کو
آج تلک تاریخ یہ شاہد، طائف کے بازار کی ہے

خلقِ خدا میں اُس کے برابر، کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
رب نے اُتارا جس پہ قرآں، ذات شہہِؐ ابرار کی ہے

جس نے اِحاطہ کر رکھا ہے، سرورِ دیں کے روضے کا
اپنی تو اتنی بھی نہیں جو، عظمت اُس دیوار کی ہے

آپؐ کسی دن رنگ تو بھر دیں، خواب کے منظر نامے میں
آقاؐ میرے دل کو تمنا، آج تلک دیدار کی ہے

جس پہ فدا مخلوق ہو ساری، خالق بھی توصیف کرے
سرورؐ دیں کو کوئی ضرورت، مجھ سے دنیا دار کی ہے

شام و سحر آتے ہیں فرشتے، جس کی سلامی کی خاطر
گنبدِ سبز کے سائے میں، کیا عظمت اُس دربار کی ہے

صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتا ہوں میں شام و سحر
اللہ اللہ کیسی قسمت ، میرے لبِ اظہار کی ہے

دامن اپنا بھرلو یارو! علم و عمل کی دولت سے
آئے گی جو کام ہمارے، سیرت وہ سرکارؐ کی ہے

لاکھ زبانی دعوے میرے، لاکھ سہی اعجازؔ بیاں
جس معیار کی ذات ہے وہ، کیا نعت بھی اس معیار کی ہے