بار بار ملتا ہے اِک شعور جینے کا

بار بار ملتا ہے اِک شعور جینے کا
جب بھی چھیڑتا ہوں میں تذکرہ مدینے کا

سرورِ رسالت پر جو دُرود پڑھتا ہے
پھر گزر نہیں ہوتا اُس کے دل میں کینے کا

احترام کرتی ہے میرا موجِ طوفاں بھی
پھیر کر سوئے طیبہ رُخ مرے سفینے کا

عالمِ تصور میں روز آتا جاتا ہوں
یاد مجھ کو رہتا ہے راستا مدینے کا

کسبِ نور کرتا ہوں روز میں مدینے سے
جگمگاتا رہتا ہے داغ میرے سینے کا

جام آب کوثر کا مصطفیؐ پلائیں گے
باغ خلد میں ہوگا اہتمام پینے کا

حاضری مدینے میں کاش میری ہو جائے
خواب دیکھتا ہوں میں روز و شب مدینے کا

یہ ربیع الاوّل ہے، نعتِ مصطفیؐ پڑھیے
احترام لازم ہے سب پہ اِس مہینے کا

پھر شناخت بن جائے مدحتِ نبیؐ میری
ایک شعر ہو جائے نعت میں قرینے کا

خوشبوؤں کو نسبت ہے سرورِ دو عالمؐ سے
ایک یہ بھی ہے اعجازؔ آپ کے پسینے کا