زخمِ انسانیت کا مداوا ہوا ، غم کے ماروں کو حاصل خوشی ہوگئی

زخمِ انسانیت کا مداوا ہوا، غم کے ماروں کو حاصل خوشی ہوگئی
آپؐ کے خلق نے کام ایسا کیا، دشمنی خود بخود دوستی ہوگئی

پھول شاخِ تمنا پہ کھلنے لگے، چاک دامن تھے جتنے وہ سلنے لگے
موت سے لوگ ہنس ہنس کے ملنے لگے، زندگی واقعی زندگی ہوگئی

آپؐ کے قافلے میں جو شامل ہوئے، اُن کے آسان سب ہو گئے مرحلے
راہ کے پیچ و خم سے جو اقف نہ تھے، اُن کو حاصل سلامت روی ہوگئی

شکریہ آپؐ کا اے شفیعِ اُمم، آپ نے رکھ لیا آدمی کا بھرم
آپ کے جب سے دنیا میں آئے قدم، تیرگی چھٹ گئی روشنی ہوگئی

راہ پر آگئے لوگ بھٹکے ہوئے، کر دیے بند سب جہل کے راستے
مسئلے حل کیے سارے الجھے ہوئے، عام دُنیا میں دانشوری ہوگئی

کھل گئے آسمانوں کے بھی راستے، ہوگئے طے جو دشوار تھے مرحلے
آپؐ سے رب ملا آپ ہم سے ملے، کس قدر فاصلوں میں کمی ہوگئی

زندگی کو لباسِ تمدن دیا، آدمی کو اُصولوں سے واقف کیا
آپؐ نے صبر کا ایسا ساغر دیا ، دور انسان کی تشنگی ہوگئی

پھول ہر سو مسرت کے کھلنے لگے، دوست دشمن گلے آکے ملنے لگے
آپؐ آئے تو موسم بدلنے لگے، غم کی تقریب ہی ملتوی ہوگئی

شکر ہے خواب پورے ہمارے ہوئے، آج روشن مقدر کے تارے ہوئے
مسکرانے لگے غم کے مارے ہوئے، آپ کے در پہ جب حاضری ہوگئی

اور کس کا بتاؤ یہ اعزاز ہے، مصطفیؐ کا یہ اعجازؔ اعجاز ہے
وحیِّ رب بن گئی مصطفیؐ کی زباں، منہ سے جو بات نکلی وہی ہوگئی