کرم حضورؐ غریب الد یّار ہم بھی ہیں

کرم حضورؐ غریب الدیّار ہم بھی ہیں
اُٹھائے اپنے گناہوں کا بار ہم بھی ہیں

کوئی شناخت ہماری نہیں سوائے حضورؐ
حضورؐ کے ہی سبب با وَقار ہم بھی ہیں

حضورؐ آپ بلالیں ہمیں مدینے میں
دیار ہوتے ہوئے بے دیار ہم بھی ہیں

بہت دنوں سے خوشی ہم سے ہے گریزاں حضورؐ
کہ مبتلائے غمِ روزگار ہم بھی ہیں

حضورؐ چُھوٹا ہے جس دِن سے آپؐ کا دامن
اذیتوں کا مسلسل شکار ہم بھی ہیں

ہمیں بھی خواہشِ منزل ہے سرورِؐ عالم
مسافروں میں سرِ رہگزار ہم بھی ہیں

ڈبو دیا ہے ہماری اَنا پرستی نے
خود اپنے تیر کے آقاؐ شکار ہم بھی ہیں

عطا ہمیں بھی غلامی کی ہو سند آقاؐ
حضورؐ آپ کے خدمت گزار ہم بھی ہیں

ہمیں بھی خاکِ مدینہ حضور مل جائے
غمِ حیات سے سینہ فگار ہم بھی ہیں

حضورؐ ہم پہ بھی ہو جائے بارشِ اِکرام
جہاں ہیں اور وہاں جانثار ہم بھی ہیں

ملے گا کب ہمیں اعجازؔ اِذن طیبہ کا
درِ حضورؐ کے اُمید وار ہم بھی ہیں