سب ساکنانِ اہلِ حرم ہیں حضورؐ کے

سب ساکنانِ اہلِ حرم ہیں حضورؐ کے
لیکن جو پیر و کار ہیں کم ہیں حضورؐ کے

کوئی کرے شمار تو ممکن نہیں شمار
انسانیت پہ اِتنے کرم ہیں حضورؐ کے

دنیا کو مل رہے ہیں اُجالے قدم قدم
تاریخ ساز نقشِ قدم ہیں حضورؐ کے

یہ فرض ہے ہمارا کہ ہم پیروی کریں
اس دہر میں غلام تو ہم ہیں حضورؐ کے

اللہ کے سوا تو کوئی جانتا نہیں
وہ رتبے جو خدا کی قسم ہیں حضورؐ کے

قرآن بھی گواہ ہے ، تاریخ بھی گواہ
جتنے بھی فیصلے ہیں اہم ہیں حضورؐ کے

ہم سے گناہگار بھی آسودہ حال ہیں
احسان ہیں خدا کے ، کرم ہیں حضورؐ کے

اُمت کے غم میں روتے رہے رات رات بھر
لوگو ! گواہ دیدۂ نم ہیں حضورؐ کے

اعجازؔ ہم تو کیا ہیں ہماری بساط کیا
مدّاح جب کہ لوح و قلم ہیں حضورؐ کے