پیروی جس نے کی مصطفیؐ کی ، وہ بشر پارسا ہوگیا ہے

پیروی جس نے کی مصطفیؐ کی، وہ بشر پارسا ہوگیا ہے
بات آقاؐ کی مانی ہے جس نے اُس سے راضی خدا ہو گیا ہے

رہنمائی سے خیر البشرؐ کی، ہو گئی ختم اذیت سفر کی
کتنا مشکل تھا اور کتنا آساں، خلد کا راستا ہو گیا ہے

کس قدر زندگی تھی اجیرن، آدمی آدمی کا تھا دشمن
مصطفیؐ کے کرم کی بدولت، آدمی کیا سے کیا ہو گیا ہے

ہو گیا گھر سے رخصت اندھیرا، شامِ غم کا ہوا ہے سویرا
آپؐ کی یاد ہے جب سے مہماں میرا دل بھی ’’حرا‘‘ ہو گیا ہے

حادثے ہاتھ ملتے رہیں گے پھول ایماں کے کھلتے رہیں گے
کفر کے جس میں کانٹے بچھے تھے صاف وہ راستا ہوگیا ہے

رشکِ محراب ہیں اُن کے ابرو حسنِ والیل ہیں اُن کے گیسو
نقشِ پا کہکشاں بن گئے ہیں، چاند رُخ پر فدا ہوگیا ہے

جب سے آئے قدم مصطفیؐ کے، رنگ بدلے مخالف ہوا کے
دشمنوں کو اَماں مل گئی ہے، دوستوں کا بھلا ہوگیا ہے

ہو گیا عظمتوں کا میں حامل، رفعتیں ہو گئیں مجھ کو حاصل
دوستو! جب سے میرا وظیفہ، وردِ صلِّ علیٰ ہوگیا ہے

شکر جتنا کروں اُتنا کم ہے، میرا اعجازؔ قائم بھرم ہے
مدحتِ مصطفیؐ کی بدولت، رب مرا ہم نوا ہو گیا ہے