سب مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہم آپؐ کے ہیں

سب مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہم آپؐ کے ہیں
دُور نظروں سے مگر نقشِ قدم آپؐ کے ہیں

آج بھی اُن کی صداقت میں نہیں شک کوئی
مستند قول سبھی شاہِ اُممؐ آپؐ کے ہیں

اِس سے بڑھ کر کوئی توصیفِ نہیں ہو سکتی
وہ جو قرآن میں اوصاف رقم آپؐ کے ہیں

طے کیا آپ نے اِک رات میں صدیوں کا سفر
صورتِ کاہکشاں نقشِ قدم آپؐ کے ہیں

خواب ہی میں کبھی دیدار مجھے ہو جائے
منتظر کب سے مرے دیدۂ نم آپؐ کے ہیں

کروٹیں لاکھ بدلتی رہی دنیا لیکن
سر بلند آج بھی سرکارؐ عَلم آپؐ کے ہیں

آپؐ نے علم کی قندیل جلائی آ کر
یہ جو تہذیب کے روشن ہیں حرم آپؐ کے ہیں

معترف جس کے ہیں اپنے بھی پرائے بھی حضورؐ
اور کس کے ہیں وہ سرکارؐ کرم آپؐ کے ہیں

حشر کے روز ہمارا بھی بھرم رکھ لینا
ہم گناہ گار سہی شاہ اُمم آپ کے ہیں

ہل نہیں سکتے ذرا آپ کی مرضی کے بغیر
ہم تو خدّام شہہِ والا حشم آپؐ کے ہیں

کام آئے گی نہ اعجاز بیانی اعجازؔ
کیا لکھے کوئی کہ جب لوح و قلم آپؐ کے ہیں