بخشوا دیجیے سرکارؐ گنگاہگاروں کو

بخشوا دیجیے سرکارؐ گنگاہگاروں کو
آپ تو پھول بنا دیتے ہیں انگاروں کو

بخش کے دولتِ سچائی خریداروں کو
آپؐ نے بند کیا جھوٹ کے بازاروں کو

دیکھتے رہ گئے سارے ستم ایجاد، حضورؐ
آپ نے کاٹ دیا پھول سے تلواروں کو

دل میں باقی رہے خواہش نہ مسیحائی کی
اِک نظر دیکھ لے جو آپؐ کے بیماروں کو

دین کی راہ میں مشکل نہ رہی کوئی بھی
آپؐ نے توڑ دیا کفر کی دیواروں کو

عدل و انصاف کے روشن کیے دنیا میں چراغ
حق دلایا مرے سرکارؐ نے حق داروں کو

پارسائی کا چلن عام زمانے میں کیا
روشنی مل گئی تقدیس کے میناروں کو

تشنہ لب آئے ہیں دنیا میں یہاں تک چل کر
جام کوثر کا عطا کیجیے میخواروں کو

حشر کے روز حضورؐ آپ ہی کام آئیں گے
کون سینے سے لگائے گا گنہ گاروں کو

یہ بھی اعجازؔ ہے اعجازِ ثنائے سرکارؐ
نعت کی مل گئی توفیق قلمکاروں کو