اُس وقت بھی اخلاقِ نبیؐ پیشِ نظر ہو

اُس وقت بھی اخلاقِ نبیؐ پیشِ نظر ہو
ہاتھوں میں کسی شخص کے تلوار اگر ہو

ہر اشک مری چشمِ تمنا کا گہر ہو
مل جائے مدینہ تو شبِ غم کی سحر ہو

ہر ایک مسلمان کے دل کی ہے تمنا
اک پل بھی بسر ہو تو مدینے میں بسر ہو

وہ جنگ کا میدان ہو یا امن کا موسم
ہر حال میں سرکارؐ کی سیرت پہ نظر ہو

ہٹ جائے اگر رحمتِؐ عالم کی توجہ
یہ وسعتِ کونین ابھی زیر و زبر ہو

سرکارؐ کے قدموں کی ہے وہ گرد سے کم تر
دُنیا میں کوئی شخص اگر رشکِ قمر ہو

اُس قلب کی عظمت کا ٹھکانا نہیں کوئی
وہ قلب کے جس قلب میں سرکارؐ کا گھر ہو

یہ بات بتائی ہے ہمیں سرورِ دیں نے
ڈر ہو کسی انساں کو تو اللہ کا ڈر ہو

ہونٹوں پہ دُرود اپنے میں رکھتا ہو ہمیشہ
کس طرح نہ پھر میری دعاؤں میں اثر ہو

صدقہ ملے اعجازؔ جو اعجاز نبیؐ کا
چاہوں میں اگر وقت کی دیوار میں در ہو