مجھے کعبے سے نسبت ہے مجھے نسبت مدینے سے

مجھے کعبے سے نسبت ہے مجھے نسبت مدینے سے
کوئی طوفان کیا ٹکرائے گا میرے سفینے سے

ہم ایسا پھول کوئی اپنے دامن میں نہیں رکھتے
جسے نسبت نہ ہو محبوبِؐ داوَر کے پسینے سے

نبیؐ کی یاد دل میں اور دُرودِ پاک ہونٹوں پر
سفر کرتے ہیں ہم سوئے مدینہ اِس قرینے سے

گیا تھا روضۂ اقدس پہ میں قربان ہونے کو
نئی اِک زندگی میں آگیا لے کر مدینے سے

کوئی مایوس لوٹا ہی نہیں دربار سے اُن کے
ہمیں بھی کچھ نہ کچھ مل جائے رحمت کے خزینے سے

درِ سرکارؐ سے دُوری اور اُس پر میری مجبوری
مجھے تو موت آجائے خدایا ایسے جینے سے

بہت تنقید کی مجھ پر زمانے کی ہواؤں نے
میں باز آیا نہیں جامِ مئے توحید پینے سے

مدینے کی ابھی تصویر آجائے نظر واعظ
چھلک جائے اگر اِک بوند میرے آبگینے سے

بہت خوش تھا گزاروں گا وہیں پر زندگی اپنی
مجھے اب غم یہ ہے کہ میں لوٹ آیا کیوں مدینے سے

نہیں ہے جس کے دل میں احترامِ سرورِؐ عالم
کمینہ کون ہے دنیا میں بڑھ کر اُس کمینے سے

میں جب بھی نعت پڑھتا ہوں تو یہ محسوس ہوتا ہے
کہیں باہر نکل آئے تڑپ کر دل نہ سینے سے

رسول محترم اعجازؔ آئے جس مہینے میں
نہیں ہے محترم کوئی مہینہ اُس مہینے سے