مشرقی ہو کوئی مغربی ہو وہ جنوبی ہو یا ہو شمالی

مشرقی ہو کوئی مغربی ہو وہ جنوبی ہو یا ہو شمالی
سب لگائے ہوئے لو خدا سے سب درِ مصطفیؐ کے سوالی

شہرِ طائف کا بازار دیکھو، سرورؐ دیں کا کردار دیکھو
دشمنوں کو دُعا سے نوازا، خود مصیبت نبیؐ نے اُٹھالی

وہ شہنشاہ ہیں بحر و بر کے، تاجور ہیں گدا اُن کے در کے
اُن کی ہستی بڑی محترم ہے، اُن کا دربار دربارِ عالی

علم کا دیپ ایسا جلایا ،کتنے ذرّوں کو سورج بنایا
ظلمتِ جہل میں مصطفیؐ کی، آگئی کام روشن خیالی

آرزوؤں کا دم گھٹ نہ جائے، قافلہ صبر کا لٹ نہ جائے
ہاتھ ہوں میں لگانے سے قاصر میرے آگے ہے روضے کی جالی

ساتھ جبریلؑ لے کر چلے تھے، عرش تک وہ اکیلے ہی پہنچے
کیا ضرورت اُنہیں رہنما کی اُن کی راہیں تھیں سب دیکھی بھالی

کیوں نہ اعجؔاز گُن اُن کے گاؤں اُن کی عظمت کے قربان جاؤں
آدمیت جہاں میں تھی رُسوا، آبرو مصطفیؐ نے بچالی