دوستو! رب سے کوئی اور دُعا مت مانگو

دوستو! رب سے کوئی اور دُعا مت مانگو
مانگنا ہے تو محمدؐ کی محبت مانگو

یہ دُعا بس سرِ دربارِ رسالت مانگو
حشر کے دن شہہِؐ والا کی شفاعت مانگو

روضۂ سرورِؐ عالم کی تمنا ہے اگر
پہلے اللہ سے جانے کی اجازت مانگو

کوئی دُنیا میں نہیں ہوگا تونگر تم سا
سیرتِ پاک سے اخلاق کی دولت مانگو

دھوپ خورشیدِ قیامت کی جلا ڈالے گی
آج سرکارؐ سے سائے کی ضمانت مانگو

مانگنے سے تمہیں ہر چیز ہی مل جائے گی
حکمِ سرکارؐ ہے اللہ سے جنت مانگو

مشک و عنبر سے بھی اعلیٰ ہے پسینہ اُن کا
رنگ مانگو نہ کسی پھول سے نکہت مانگو

پڑھ رہی ہے شہہِؐ والا پہ فضائیں بھی درود
تم کو سننا ہے اگر حسنِ سماعت مانگو

داغ جتنے بھی ہیں عصیاں کے وہ دھل جائیں گے
اپنی آنکھوں کے لیے اشکِ ندامت مانگو

مشکلیں جتنی بھی آئیں گی وہ ٹل جائیں گی
اُن کی سیرت سے مدد وقتِ ضرورت مانگو

کس لیے اور کسی در کا سہارا ڈھونڈو
جو مدینے میں ہے اُس در کی حمایت مانگو

اور نسبت کوئی کام آ نہ سکے گی یارو!
دونوں عالم میں جو کام آئے وہ نسبت مانگو

نیک و بد کی تمہیں تمیز میسر ہوگی
حبِّ سرکارؐ ہو جس میں وہ بصیرت مانگو

وہ جو سرکارِؐ دو عالم پہ ہوا ہے نازل
اُسی قرآنِ معظّم سے ہدایت مانگو

نسبتِ سرورِ عالم کا تقاضا ہے یہی
اپنے اللہ سے صورت نہیں سیرت مانگو

پہلے اپناؤ شہنشاہِؐ دو عالم کے اُصول
پھر بڑے شوق سے دُنیا کی حکومت مانگو

چاہیے گر تمہیں اعجازؔ ادب میں اعجاز
نعتِ سرکارِؐ دو عالم کی سعادت مانگو