پیرویٔ شفیعُِ الوریٰؐ کیجیے ، روشنی ظلمتوں میں جو درکار ہے

پیرویٔ شفیعُِ الوریٰؐ کیجیے، روشنی ظلمتوں میں جو درکار ہے
خوبخود ٹوٹ کر وہ بکھر جائے گی، راستے میں اگر کوئی دیوار ہے

کیوں کسی کی طرف ہم اٹھائیں نظر، اپنی منزل تو ہے کوئے خیرالبشرؐ
عرصۂ زیست میں اور کوئی نہیں، ذاتِ خیرالبشرؐ اپنا معیار ہے

ہم مسلمان ہیں اہلِ ایمان ہیں، پھر بھی آپس میں دست و گریبان ہیں
دوستو! آؤ قرآن سے پوچھ لیں، کون مجبور ہے کون مختار ہے

راحتِ قلب و جاں کی طلب ہے اگر، چاہتے ہو کہ مل جائے غم سے مفر
غم کے مارو مدینے کی جانب چلو، اور کون آنسوؤں کا خریدار ہے

کوئی ادنیٰ نہیں، کوئی اعلیٰ نہیں، کوئی گورا نہیں، کوئی کالا نہیں
رنگ اور نسل کا کوئی جھگڑا نہیں، مصطفیؐ کا وہ دربار دربار ہے

بادشاہوں سے بڑھ کر سرافراز ہیں، اُن کے قدموں پہ قربان اعزاز ہیں
جو غلامِ شہہِؐ انبیاء بن گئے اُن کے سر پر فضیلت کی دستار ہے

زندگی مستقل امتحاں ہوگئی رب کی رحمت بھی دامن کشاں ہوگئی
جب سے چُھوٹا ہے دامانِ خیرالبشر،ؐ زندگی مشکلوں میں گرفتار ہے

اُس کو دنیا میں کوئی خسارا نہیں، وہ کسی طور پر بے سہارا نہیں
رہنما اُس کا طوفان بن جائے گا، اُسوۂ مصطفیؐ جس کی پتوار ہے

دعویِٰ عشقِ سرکار کرتے ہیں سب اور ہیں سب کے محبوب، محبوب ِؐ رب
فیصلہ اب عمل ہی سے ممکن ہے یہ، کس کو اقرار ہے کس کو انکار ہے

پیرویٔ رسولِؐ خدا کیجیے، دوستو اُس کے حق میں دُعا کیجیے
رب کی رحمت ہے اُس شخص کی منتظر، سوئے طیبہ سفر کو جو تیار ہے

یہ لڑائی یہ جھگڑے ہیں کس کام کے، اِس سے دشمن مٹیں گے نہ اِسلام کے
کاٹ دیتی ہے جو دشمنوں کا جگر، سیرتِ مصطفیؐ ایسی تلوار ہے

سرورِؐ انبیاء، تاجدارِ حرم اپنے اعجازؔ پر بھی نگاہِ کرم
ہے قیامت سے پہلے قیامت بپا، زندگی کا سفر کتنا دشوار ہے