خیمہ برائیوں کا نبیؐ نے جلا دیا

خیمہ برائیوں کا نبیؐ نے جلا دیا
اِنسان کو بھلائی کا رستا دکھا دیا

جب دھوپ ظلم و جور کی حد سے گزر گئی
اللہ کے رسولؐ نے سایا بچھا دیا

آخر دیارِ جہل کی قسمت بدل گئی
علم و عمل کا آپؐ نے دریا بہا دیا

عظمت اُسے نصیب ہوئی کائنات میں
جس نے نبیؐ کے حکم پہ سر کو جھکا دیا

چہرے نزولِ شبنمِ رحمت سے دھل گئے
آقاؐ نے اِنتقام کا شعلہ بجھا دیا

اُمید عاصیوں کو شفاعت کی ہو گئی
رحمت نے مصطفیؐ کی بڑا حوصلہ دیا

اُن کی عطائے خاص کا عالم نہ پوچھیے
بے زر کو مصطفیؐ نے ابوزرؓ بنا دیا

واجب ہے ہم پہ شکر خدائے عظیم کا
جو کچھ دیا نبیؐ نے بحکمِ خدا دیا

پڑھ کر دُرود میں نے بڑھائے ہیں جب قدم
دُنیا کی مشکلوں نے مجھے راستا دیا

معراجِ مصطفیؐ نے کیا اِرتقا شناس
تسخیرِ ماہتاب کا راستا دکھا دیا

اعجازؔ نعتِ سرورِؐ کونین کیا لکھی
اللہ کے کرم نے سخنور بنا دیا