روشنی سے عبارت ہے ہر زندگی، کیا تمہیں موت کی تیرگی چاہیے

روشنی سے عبارت ہے ہر زندگی، کیا تمہیں موت کی تیرگی چاہیے
سب یہ کہتے ہوئے سوئے طیبہ چلو، زندگی چاہیے زندگی چاہیے

دُور ذہنوں سے اپنے خلل کیجیے، زلفِ احساس کے دُور بل کیجیے
اُسوۂ مصطفیؐ پر عمل کیجیے، دشمنوں سے اگر دوستی چاہیے

لب پہ جب آئے نامِ رسول ِؐ خدا پڑھیے صلِّ علیٰ پڑھیے صلِّ علیٰ
جب بھی آجائے مشکل کوئی مرحلہ، پیرویٔ رسولؐ خدا کیجیے

زندگی مختصر، وقت ہے مختصر، اور درپیش کوئے نبیؐ کا سفر
کل کا کوئی بھروسہ نہیں ہے مگر، اہتمام سفر آج ہی چاہیے

آپؐ نورِ ازل ، آپؐ نور ابد، آپؐ کی عظمتیں ماورائے خرد
ہم سے تیرہ نصیبوں کی کیجئے مدد، روشنی چاہیے روشنی چاہیے

کوئی اچھا عمل زیبِ داماں نہیں، اپنی بخشش کا کوئی بھی امکاں نہیں
حشر کا دن ہے اور کوئی پرساں نہیں، اب ضمانت ہمیں آپؐ کی چاہیے

آپؐ عالی نسب، آپ محبوبؐ رب، آپؐ ہیں دائمی رحمتوں کا سبب
آپؐ کا دونوں عالم پہ واجب ادب، آپؐ کے در سے وابستگی چاہیے

ہے جو بگڑا ہوا کام بن جائے گا، رحم اُس پر یقینا کرے گا خدا
دیکھے آئینہ اُسوۂ مصطفیؐ وہ بشر جس کو صورت گری چاہیے

بزمِ عالم میں اعجازؔ جب تک رہو نقشِ پائے رسول ِؐ خدا پر چلو
نعت لکھتے رہو، نعت پڑھتے رہو، تم کو عزت اگر واقعی چاہیے