رسولِ برحق حبیبِ داوَر ، دُرود تم پر سلام تم پر

رسولِ برحق حبیبِ داوَر، دُرود تم پر سلام تم پر
قسیمِ کوثر شفیعِ محشر، دُرود تم پر سلام تم پر

جلائے تم نے چراغ کتنے، کیے ہیں روشن دماغ کتنے
تم ہی سے ہیں دو جہاں منور، دُرود تم پر سلام تم پر

میں ایک قطرے سے بھی ہوں کم تر، حضور رحمت کا تم سمندر
یہی ہے دل میں ، یہی زباں پر، دُرود تم پر سلام تم پر

بھلائی کے راستے دکھائے، چراغِ علم و عمل جلائے
بنا دیا رہزنوں کو رہبر، دُرود تم پر سلام تم پر

نبی ہیں جتنے بھی محترم سب، مگر کسی کا نہیں یہ منصب
حضورؐ تم ہو حبیبِ داوَر، دُرود تم پر سلام تم پر

دعائیں دیں قاتلوں کو تم نے، کیا ہے حل مشکلوں کو تم نے
کرم کیا سب پہ زندگی بھر، دُرود تم پر سلام تم پر

محبتوں کے امین ہو تم، ہمارے دل میں مکین ہو تم
تم ہی ہو بندوں میں بندہ پرور، دُرود تم پر سلام تم پر

گناہگاروں کو روز ِمحشر جلا سکے گی نہ دھوپ، سرورؔ
تمہارا سایا ہے سب کے سر پر، دُرود تم پر سلام تم پر

یہ میرا اعزاز کم نہیں ہے، مجھے اب اعجازؔ غم نہیں ہے
پہنچ گیا ہوں تمہارے در پر، دُرود تم پر سلام تم پر