میں جب سے آگیا ہوں دیارِ رسولؐ میں

میں جب سے آگیا ہوں دیارِ رسولؐ میں
خود کو بھلا چکا ہوں دیارِ رسولؐ میں

ہے انگ انگ میں مرے خوشبو بسی ہوئی
میں پھول بن گیا ہوں دیارِ رسولؐ میں

منظر نہیں ہے جن میں کوئی خلد کے سوا
وہ خواب دیکھتا ہوں دیارِ رسولؐ میں

بیٹھا ہوں زیرِ سایۂ دیوارِ مصطفیؐ
ہر غم سے ماورا ہوں دیارِ رسولؐ میں

محسوس ہو رہا ہے کہ کایا پلٹ گئی
میں کیا تھا اور کیا ہوں دیارِ رسولؐ میں

آنسو درِ رسولؐ پہ کرتے ہیں گفتگو
لب کب میں کھولتا ہوں دیارِ رسولؐ میں

جلووں کے درمیان ہے چشمِ گناہگار
آئینہ بن گیا ہوں دیارِ رسولؐ میں

اُن کے سوا نظر نہیں آتا کوئی مجھے
جس سمت دیکھتا ہوں دیارِ رسولؐ میں

اعجازؔ جستجو کی حدیں ہو گئیں تمام
اللہ سے ملا ہوں دیارِ رسولؐ میں