جس دن سے محبوب خدا کے ، میں نے اُصول اپنائے ہیں

جس دن سے محبوب خدا کے، میں نے اُصول اپنائے ہیں
دشمن مجھ سے خوف زدہ ہے، خوش مجھ سے ہم سائے ہیں

مشکل دَور میں جینے کے، آداب ہمیں سکھلائے ہیں
چشمِ کرم نے آپ کی آقا،ؐ کانٹے پھول بنائے ہیں

آپؐ کے دَر سے دُوری نے یہ وقت ہمیں دکھلایا ہے
پیروں میں زنجیریں، سروں پر تلواروں کے سائے ہیں

بات کریں تو بات کریں ہم آپؐ کے کس کس احساں کی
آپؐ ہمارے واسطے قرآں جیسی نعمت لائے ہیں

مہکا ہوا ہے آج بھی سارا عالم اُن کی خوشبو سے
طائف میں جو خون سے اپنے، آپ نے پھول کھلائے ہیں

منسوب اُن کی ذات سے بھی ہے، مظلموں کی آزادی
طوقِ غلامی آپ نے آقاؐ جس جس کو پہنائے ہیں

حشر کے دن بھی آپؐ کی رحمت کام ہمارے آئے گی
آپؐ تو اِس دنیا میں آقا رحمت بن کر آئے ہیں

دونوں جہاں میں ایک بھی ایسا گوشہ ہو تو بتلا دو
آپؐ کی رحمت کے بادل تو ہر عالم پر چھائے ہیں

سرورِؐ عالم آپ سے پھر اعجازؔ نہ کیوں اُمید رکھے
آپؐ تو اپنے دشمنوں کے بھی، دُنیا میں کام آئے ہیں