کوئی خلقت میں اُن سے نہیں بڑا وہ حبیب خدا اُن کی کیا بات ہے

کوئی خلقت میں اُن سے نہیں بڑا وہ حبیب خدا اُن کی کیا بات ہے
ہم گناہگار ہیں، ہم سیہ کار ہیں، وہ شفیعُ الوَریٰؐ اُن کی کیا بات ہے

اور کس کو عروج اِتنا حاصل ہوا، سارا قرآن ہی اُن پہ نازل ہوا
زینتِ عرش ہیں عظمتِ فرش ہیں، وہ مکینِ ’’حرا‘‘ اُن کی کیا بات ہے

ساری مخلوق میں کوئی ایسا کہاں، اُن کے صدقے میں ہیں یہ زمین آسماں
اُن کی عظمت کی کوئی نہیں انتہا، وہ شہہِ انبیاء اُن کی کیا بات ہے

محترم، محتشم، معتبر، مقتدر، ساری انسانیت کے وہ ہیں راہبر
رجعتِ مہر ہو یا کہ شق القمر، اُن کا ہی معجزہ اُن کی کیا بات ہے

سب سے افضل دو عالم میں ذات اُن کی ہے وہ ہیں محبوبِ رب، کائنات اُن کی ہے
ربِّ اکبر نے جو کچھ بھی ہم کو دیا، اُن کے صدقے ملا اُن کی کیا بات ہے

وہ سوئے عرشِ اعظم بلائے گئے، رحمتِ رب کے وہ سائے سائے گئے
وہ شفیعِ اُممؐ ، ہیں وہ خیر البشر،ؐ مجتبیٰ مصطفیؐ اُن کی کیا بات ہے

اُن کی خاطر دو عالم بنائے گئے، اُن کے انوار سے پھر سجائے گئے
ان کے رتبے کچھ اتنے بڑھائے گئے عقل سے ماورا ان کی کیا بات ہے

جو بھی اُن سے ملا اُس کو رب مل گیا، بے ادب زندگی کو ادب مل گیا
رب سے وہ آشنا اُن سے رب آشنا، وہ دلیلِ خدا اُن کی کیا بات ہے

زندگی کا سفر ہو نہ جائے تمام ، ان پہ اعجازؔ بھیجو درود و سلام
وہ کرم ہی کرم، وہ عطا ہی عطا، وہ دعا ہی دعا، اُن کی کیا بات ہے