آپؐ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم

آپؐ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم

دونوں عالم پہ ہے آپؐ ہی کا کرم
آپؐ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم
آپؐ کے دم سے قائم ہمارا بھرم
چھوڑ کر آپؐ کا در نہ جائیں گے ہم

آپؐ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم

آپؐ کے ہی لیے ہیں یہ دونوں جہاں
آپؐ محبوب اللہ کے بے گماں
آپؐ سے ہے زمیں آپ سے آسماں
کہکشاں آپؐ ہی کے ہیں نقشِ قدم

آپؐ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم

آپؐ عرشِ بریں پر بلائے گئے
آپؐ کو سارے منظر دکھائے گئے
جتنے پردے تھے سارے اٹھائے گئے
خاص اللہ کا آپ پر ہے کرم

آپؐ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم

ہم گنہگار محشر میں جب جائیں گے
آپ آقاؐ کرم ہم پہ فرمائیں گے
پھول رحمت کے سرکارؐ برسائیں گے
ہوں گے جنت کے اندر ہمارے قدم

آپ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم

دل میں حسرت مدینے میں آنے کی ہے
آرزو ہم کو بھی مسکرانے کی ہے
آپؐ کو تو خبر ہر زمانے کی ہے
کب تلک دشمنوں کے سہیں ہم ستم

آپؐ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم

ہو کرم اتنا سرکارؐ اعجازؔ پر
نعت لکھتا رہے آپؐ کی عمر بھر
بس اِسی کام میں زندگی ہو بسر
روز و شب میرا چلتا رہے یہ قلم

آپؐ سے بڑھ کے کوئی نہیں محترم