ہم نے تجدید زندگی کرلی

ہم نے تجدید زندگی کرلی
اپنے دشمن سے دوستی کرلی

بجھ گئے جب ہوا سے گھر کے چراغ
ہم نے اشکوں سے روشنی کرلی

کچھ خبر ہے تجھے دل ناداں
تو نے کس سے برابری کرلی

دیکھ کر وقت کے خداؤں کو
ہم نے اپنی ہی بندگی کرلی

شہر میں آگئے ہیں کس کے قدم
ساری بستی نے خودکشی کرلی

تیری تصویر نے کمال کیا
چپ رہی اور بات بھی کرلی

اب کسی راہزن کو ڈھونڈیں گے
رہبروں نے تو رہبری کرلی

اب نہ آئیں گے تیری باتوں میں
دل بہت تو نے دل لگی کرلی

دیکھئے کیا صلہ ملے اعجازؔ
زندگی بھر تو شاعری کرلی