رہتی ہے تعاقب میں جزائوں کی سزا بھی

رہتی ہے تعاقب میں جزاؤں کی سزا بھی
خورشید بھی دشمن ہے چراغوں کا ہوا بھی

احساس ہوا گھر میں قدم آئے جو اُس کے
سنتا ہے کوئی دل کے دھڑکنے کی صدا بھی

دعویٰ تو کیا مجھ سے رفاقت کا سبھی نے
دو چار قدم کوئی مرے ساتھ چلا بھی

اس شہر کی تقدیر بدل دی مرے خوں نے
جس شہر میں موجود نہ تھا ایک دیا بھی

معلوم ہوا اپنے تجسس میں ہے خامی
ڈھونڈے اگر انسان تو مل جائے خدا بھی

ہر شخص کو آتے نہیں آدابِ محبت
ہر شخص ہے شائستۂ آدابِ وفا بھی

گل ایسے کھلائے ہیں زمانے کی ہوا نے
گلزار سے کترا کے گزرتی ہے صبا بھی

کل چاند ستارے تھے در و بام کی زینت
اب گھر کو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

اعجازؔ کسی موڑ پہ مغرور نہ ہونا
انسان سے ہو جاتی ہے دانستہ خطا بھی