تیرے کرم کا تیری عطا کیسے کوئی انکار کرے

تیرے کرم کا تیری عطا کیسے کوئی انکار کرے
ستّر ماؤں سے جو زیادہ انسانوں سے پیار کرے

نام خدا کا لے کر جو بھی دشمن پر یلغار کرے
کند کرے ہر تیغ کو وہ ہر خنجر کو بیکار کرے

دریا، جھیل، پہاڑ، سمندر، گلشن، صحرا سب تیرے
خورشید و مہتاب سے اپنی قدرت کا اظہار کرے

عزت، عظمت، شہرت، دولت تو ہی دینے والا ہے
وہ تو کبھی مجبور نہ ہوگا تو جس کو مختار کرے

سوچوں کے اظہار کو تو نے قوت دی گویائی کی
آنکھوں کو بینائی بخشے ذہنوں کو بیدار کرے

مشکل کو حل کرنے والا کوئی نہیں ہے تیرے سوا
پربت کردے رائی کو مجبور کو تو مختار کرے

میل دلوں کے دھو دیتا ہے نام ترا اور ذکر ترا
جب جب کوئی تجھ کو پکارے دور ہر اک آزار کرے

بے شکل واحد جو خدا ہو کیسے کوئی دیکھے اس کو
ایسی آنکھ نہیں ہے کوئی جو اس کا دیدار کرے

شرط بس اتنی سی ہے کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے
جو بھی چاہے روشن اپنی عظمت کے مینار کرے

کوئی تذبذب مجھ کو نہیں اعجازؔ یہ میرا ایماں ہے
ساتھ اگر ہو نصرت رب کی دشمن کیسے وار کرے