میں قاریٔ قرآن ہوں

مجھ کو بخشا ہے خدا نے حق باطل کا شعور
میں کہ آسانی سے پا لیتا ہوں مشکل پر عبور
میں کبھی رہتا نہیں اللہ کی رحمت سے دور
ہے مرے افکار میں قرآن ہی بین السطور

شکر ہے اللہ کا میں صاحبِ ایمان ہوں
قاریٔ قرآن ہوں میں قاریٔ قرآن ہوں

شرک سے نفرت ہے مجھ کو اور بدعت سے گریز
ہو نہیں سکتا کبھی مجھ کو شریعت سے گریز
منزل حق میں نہیں مجھ کو شہادت سے گریز
مجھ کو آتا ہی نہیں قانون قدرت سے گریز

جس سے ہے قرآن مخاطب میں وہی انسان ہوں
قاریٔ قرآن ہوں میں قاریٔ قرآن ہوں

یہ زمین و آسماں اللہ نے پیدا کیے
ہیں مری خاطر ہی روشن چاند تاروں کے دیے
ان کے سارے فائدے کس لیے میرے لیے
میں بدل سکتا نہیں اپنی نظر کے زاویے

غیر کا بندہ نہیں ہوں بندۂ رحمان ہوں
قاریٔ قران ہوں میں قاریٔ قرآن ہوں

دوستی رب کے لیے ہے دشمنی رب کے لیے
موت رب کے واسطے ہے زندگی رب کے لیے
غم ہے رب کے واسطے ہر اک خوشی رب کے لیے
میری دانش اور شعور و آگہی رب کے لیے

یہ تعارف ہے میرا میں اپنی خود پہچان ہوں
قاریٔ قرآن ہوں میں قاریٔ قرآن ہوں

زندگی کے جتنے بھی ہیں رنگ رب کے واسطے
امن رب کے واسطے ہے جنگ رب کے واسطے
ہر ادا رب کے لیے ہر ڈھنگ رب کے واسطے
میری لے رب کے لیے آہنگ رب کے واسطے

کائناتِ رنگ و بو میں چند دن مہمان ہوں
قاریٔ قرآن ہوں میں قاریٔ قرآن ہوں

فکر میری رب کی جانب مائلِ پرواز ہے
خالقِ کونین کی قدرت پہ مجھ کو ناز ہے
حمد و نعت و منقبت میرے لیے اعزاز ہے
شعر لکھنے کا مرے اعجازؔ اک انداز ہے

میں کتاب اللہ پر سو جان سے قربان ہوں
قاریٔ قرآن ہوں میں قاریٔ قران ہوں