آپؐ کے در پہ بہاتے ہیں گنہگار آنسو

آپؐ کے در پہ بہاتے ہیں گنہگار آنسو
میں بھی آنکھوں میں لیے بیٹھا ہوں سرکارؐ آنسو

پاس کچھ بھی تو نہیں بے سرو سامانی میں
آپؐ کی نذر ہیں سرکارؐ یہ دو چار آنسو

یادِ سرکارِ دو عالم کا کرم تو دیکھو
جگمگانے لگے پلکوں پہ شبِ تار آنسو

کہکشاں چرخ سے آتی ہے بلائیں لینے
آپؐ کے ہجر میں بہتے ہیں جو سرکارؐ آنسو

دیکھ کر روضۂ اقدس جو پلٹ آتی ہیں
بہتے رہتے ہیں ان آنکھوں سے لگا تار آنسو

پلہ بھاری رہا ان کا ہی مدینے جاکر
جب تبسم سے ہوئے برسرِ پیکار آنسو

صاف ہو جاتا ہے آئینہ ہستی کا غبار
جب بہاتے ہیں کسی غم میں گرفتار آنسو

مشکلیں روک نہ پائیں گی مدینے کا سفر
توڑ دیتے ہیں ہر اک راہ کی دیوار آنسو

مجھ کو امید ہے مجھ پہ بھی کرم ہوگا ضرور
دیکھ لیں گے جو مرے سیدِ ابرارؐ آنسو

مدتوں سے ہے غمِ دوریٔ طیبہ دل میں
آج کرتے ہیں مرے درد کا اظہار آنسو

رحم آجائے گا آقاؐ کو مری حالت پر
بن ہی جائیں گے سرِ حشر مددگار آنسو

مجھ گنہگار کا محشر میں بھرم رہ جائے
آپؐ کی چشمِ کرم کے ہیں طلبگار آنسو

ایک ایک آنسو کی طیبہ میں ملے گی قیمت
پھر تو اعجازؔ بہاؤں گا میں سو بار آنسو