کیوں نہ ہو آقا ہمارے لب پہ مدحت آپؐ کی

کیوں نہ ہو آقا ہمارے لب پہ مدحت آپؐ کی
دولتِ دارین پائی ہے بدولت آپؐ کی

بندگی اللہ کی واجب اطاعت آپؐ کی
درس دیتی ہے یہی سب کو شریعت آپؐ کی

بے مثال و بے نظیر و با کمال و لاجواب
آپ کی صورت ہے آقا اور سیرت آپؐ کی

وہ کسی بھی شخص سے لیتے نہیں ہیں انتقام
سرورِ عالم جو کرتے ہیں اطاعت آپؐ کی

کام آئے گی بروزِ حشر جو سب کے حضور
صرف رحمت آپ کی ہے صرف رحمت آپؐ کی

وہ عدالت سے سرِ محشر بری ہو جائے گا
حشر میں حاصل جسے ہوگی ضمانت آپؐ کی

اس کا استقبال خود رضواں کرے گا خُلد میں
جانب فردوس جب جائے گی اُمت آپؐ کی

اس سے بڑھ کر کون خوش قسمت ہے بزمِ دہر میں
خون میں جس شخص کے شامل ہے نسبت آپؐ کی

زندگی کے دائرے تکمیل پا سکتے نہیں
ہے ضرورت آج بھی حسبِ ضرورت آپؐ کی

آپؐ کی رحمت نوازی پر بھروسہ ہے ہمیں
آپؐ کے ہم اُمتی ہیں اور اُمت آپؐ کی

اس لیے بھی انتظار روز محشر ہے ہمیں
ہم گنہگاروں کو بھی ہوگی زیارت آپؐ کی

میں تلاوت جب بھی کرتا ہوں کلام اللہ کی
مجھ کو قرآں میں نظر آتی ہے صورت آپؐ کی

ایک پل قائم نہ رہتا زندگی کا سلسلہ
بزمِ امکاں میں اگر ہوتی نہ بعثت آپؐ کی

آج بھی ان کا ہے لوگوں کے دلوں میں احترام
زندگی بھر کی ہے جن لوگوں نے خدمت آپؐ کی

حشر میں میرا بھی رکھ لینا بھرم میرے حضورؐ
لب پہ اعجازؔ رحمانی کے مدحت آپؐ کی