جو اپنی زندگی میں اسوۂ سرکارؐ رکھتے ہیں

جو اپنی زندگی میں اسوۂ سرکارؐ رکھتے ہیں
نہ ان کے پاس خنجر ہے نہ وہ تلوار رکھتے ہیں

جمالِ گنبدِ خضرا سے روشن قلب ہیں جن کے
وہ اپنے ذہن خوشبو کی طرح بیدار رکھتے ہیں

عمل کرتے ہیں جو احکامِ توحید و رسالت پر
جناں کا راستا ہر وقت وہ ہموار رکھتے ہیں

منور ہیں جو دل کرنوں سے خورشیدِ رسالت کی
اندھیروں سے نہیں وہ روشنی سے پیار رکھتے ہیں

ہے جن کے پاؤں میں زنجیر آقاؐ کی غلامی کی
وہ اپنی دسترس میں وقت کی رفتار رکھتے ہیں

سفینے کو ہمارے کیا کسی طوفان کا خطرہ
ہم اپنے ہاتھ میں اسلام کی پتوار رکھتے ہیں

جنہیں دعویٰ ہے سرکارؐ دو عالم کی محبت کا
وہ خود کو امتحاں کے واسطے تیار رکھتے ہیں

نظر آتا ہے ان کو عکس روئے سرورؐ عالم
جو انساں صاف اپنا شیشۂ کردار رکھتے ہیں

بھٹکنے کا نہیں خدشہ ہمیں راہِ شریعت میں
رسولؐ اللہ سا ہم قافلہ سالار رکھتے ہیں

در اقدس پہ جا کر سلب ہو جاتی ہے گویائی
یہاں تو صرف آنسو ہی لبِ اظہار رکھتے ہیں

کسی دن تو حضوری کا شرف حاصل ہمیں بھی ہو
کہ ہم بھی اپنے دل میں حسرت دیدار رکھتے ہیں

یقیں رکھتے ہیں جو اسلام کے سچے اصولوں پر
برائی سے وہ خود کو برسرِ پیکار رکھتے ہیں

سلیقہ مدحتِ سرکارؐ کا اعجازؔ ہے جن کو
وہ اپنا منفرد پیرایۂ اظہار رکھتے ہیں