جسم پر پہلے شریعت کا لبادہ چاہیے

جسم پر پہلے شریعت کا لبادہ چاہیے
پھر مدینے کے لیے گھر سے نکلنا چاہیے

حشر کے دن اور کیا سرکارِؐ والا چاہیے
ہم گنہگاروں کو رحمت کا اشارہ چاہیے

آپ کی رحمت تو ہے سب کی طلب میرے حضورؐ
میں تو عاصی ہوں مجھے رحمت زیادہ چاہیے

!مصطفیؐ نے یہ ہمیں تعلیم دی ہے دوستو
کوئی مشکل ہو خدا کا نام لینا چاہیے

روشنی کے باب میں یہ بھی ہے ارشادِ رسولؐ
گھر میں قرآں کی تلاوت کا اجالا چاہیے

عام ہے دنیا میں بازار محمدؐ مصطفی
دوستو! آؤ کسے جنت کا سودا چاہیے

یہ مدینہ ہے یہاں رونے کے بھی آداب ہیں
کچھ سلیقہ بھی تجھے اے چشمِ بینا چاہیے

مرحلے دنیا کے ہوں یا آخرت کے مرحلے
یاد ہے ان کی اگر دل میں تو پھر کیا چاہیے

کیا ہدایت ہے نبیؐ کی اور کیا حکمِ خدا
ہم مسلماں ہیں ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے

تشنہ کاموں وہ قسیمِ کوثر و تسنیم ہیں
اس کو اتنا ہی ملے گا جس کو جتنا چاہیے

مجھ سے لاکھوں کے لیے رحمت کا ایک قطرہ بہت
پیاس کی شدت یہ کہتی ہے کہ دریا چاہیے

آج بھی انسان کو گر عظمتیں درکار ہیں
سیرت خیرالبشرؐ سے استفادہ چاہیے

مدحتِ سرورؐ کہاں اعجاز رحمانی کہاں
نعت کہنے کے لیے کچھ تو سلیقہ چاہیے