تخلیقِ کائنات کا منشا تمہیں تو ہو

تخلیقِ کائنات کا منشا تمہیں تو ہو
اس انجمن میں انجمن آرا تمہیں تو ہو

خلقت میں کون تم سے ہے اچھا تمہیں تو ہو
اس ساری کائنات میں یکتا تمہیں تو ہو

دنیائے فکر و فن میں ہوئی جس سے روشنی
وہ آفتاب صبحِ تمنا تمہیں تو ہو

ہیں جس کی جستجو میں گناہگار و پارسا
سرکارؐ رحمتوں کا وہ دریا تمہیں تو ہو

ایسا کوئی طبیب نہیں کائنات میں
ٹوٹے ہوئے دلوں کے مسیحا تمہیں تو ہو

قرآن دے رہا ہے گواہی اس امر کی
کوئی اگر ہے حسن سراپا! تمہیں تو ہو

ہم سے گناہگار بھی امیدوار ہیں
اوڑھے ہوئے کرم کا دوشالا تمہیں تو ہو

تہذیبِ زندگی سے کیا آشنا ہمیں
انسانیت کو جس نے سنبھالا تمہیں تو ہو

معبود اور عبد کے جو درمیان ہے
اس کائنات میں وہ وسیلہ تمہیں تو ہو

اخلاق کی مثال نہ کردار کی مثال
ہے جس کا رنگ سب سے اچھوتا تمہیں تو ہو

آتے ہیں عکس جس کے نظر کائنات میں
اک ایسا آئینہ شہہِؐ والا تمہیں تو ہو

اعجازؔ نعت گو تو بہت سے ہیں اور بھی
تم خود کو یہ نہ سمجھو کہ تنہا تمہیں تو ہو