انسان ملوث تھے کیا کیا اس دنیا کے آزاروں میں

انسان ملوث تھے کیا کیا اس دنیا کے آزاروں میں
سرکارؐ مسیحائی کے لیے مبعوث ہوئے بیماروں میں

تسلیمِ رسول اکرمؐ نے کردار بنائے لوگوں کے
آیا ہے، نہ جھول آئے گا کبھی ان عظمت کے میناروں میں

خوشبو سے معطر ہے جن کی واللہ شامِ دو عالم
اخلاق رسول اکرمؐ سے وہ پھول کھلے انگاروں میں

اللہ کے بندے آتے ہیں اور دل کی مرادیں پاتے ہیں
دربار نبیؐ ہے سب سے الگ اس دنیا کے درباروں میں

محبوبؐ خدا کی سیرت پر مظلوم عمل پیرا ہوں اگر
زنجیر کے حلقے کھل جائیں در پیدا ہوں دیواروں میں

سرکارؐ کی آمد کے صدقے برسات ہوئی وہ رحمت کی
جو خار بداماں صحرا تھے تبدیل ہوئے گلزاروں میں

اللہ سے رشتے جوڑ دیے اور جام وسبو سب توڑ دیے
سرکارؐ نے کوثر کی خواہش پیدا کر دی میخواروں میں

تہذیب و تمدن کے کیا کیا آقاؐ نے محل تعمیر کیے
سرکارؐ دو عالم سا کوئی معمار نہیں معماروں میں

سرکارؐ کے چاہنے والے تو مصروف جہاد ہی رہتے ہیں
مہمیز کیا طوفانوں نے پروان چڑھے تلواروں میں

اللہ کی بابت سمجھایا اور زیست کا مقصد بتلایا
محبوبؐ خدا نے عام کیا اس سوچ کو دنیا داروں میں

افلاس زدہ ذہنوں کو ملی تہذیب و تمدن کی دولت
اخلاق کے موتی بانٹ دیے مجبوروں میں ناداروں میں

اعجازؔ جہاں سے گزرے ہیں وہ سرورِ دیں محبوبؐ خدا
اللہ مجھے بھی لے جائے ان گلیوں میں بازاروں میں